Monday, December 10, 2018

ڈورہ پہاڑ لیسواء نیلم ویلی

ڈورا پہاڑ لیسواء نیلم ویلی ۔
سیاحت کے اعتبار سے لیسواء نیلم ویلی میں بے شمار مقامات ہیں جن میں سے ایک ڈورا پہاڑ بھی ہے یہ پہاڑ لیسواء نیلم ویلی کے مشہور سیاحتی مقام گوگل دھوپ مالی۔
Google Peak
سے مشرق کی جانب اس کے کچھ بلند چوٹی ہے جس کے نیچے سنگ لاخ چٹانیں ہیں ۔
اس چوٹی سے پیر پنجال کی ساری چوٹیوں کا نظارہ کیا جاسکتا ہے علاوہ ازیں اس سے گلگت بلتستان کے بیشتر چوٹیاں بھی واضع نظر اتی ہیں۔
شیخ عمر نزیر

Snow Chain

آپ پہاڑی علاقے میں سردیوں میں ٹور کرنے آرہے ہیں ۔
کیا آپ ایسے علاقے میں زاتی گھاڑی پر ٹور کرنے آرہے ہیں جہاں برف باری موجود ہے یا برف باری ہونے کے امکان ہیں
تو پھر ایک چیز جو اپکے زاد راہ کا لازمی حصہ ہونا چاہیے وہ چیز کیا ہے ۔
جی ہاں جیسا کے تصویر سے واضع ہورہا ہے وہ چیز یے سنو چین Snow Chain  یہ اپکو سلپری ایریا میں بہت معاون ثابت ہوگئی ۔
یہ چند سو کی چین اپکے ہزاروں روپے بچا سکتی جو اپ گھاڑی پھنس جانے کی صورت میں اسے نکالنے پر خرچ کرتے ہیں ۔
ایک سیٹ میں دو عدد چین ہوتے ہیں جو کہ کسی گھاڑی کیلے کافی ہوتے ہیں ۔
لیکن اگر اپ ہیوی برف باری والے علاقے میں ہیں تو چاروں ٹائروں پر چین چھڑا لیں یہ اپکے لیے بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔
جزاک اللہ خیرا
اپکا خیر خواہ
شیخ عمر نزیر ٹور بلاگر/ ٹور منیجر

Friday, November 16, 2018

دھنی واٹر فال

دھنی واٹر فال کا نام تو سنا ہوگا نا؟
جی ہاں وہی واٹر فال جو نیلم ویلی جاتے ہوئے دھنی کے مقام پر روڈ کی بائیں جانب اتی ہے ۔
اس واٹر فال کو لیز پر دیا گیا ہے اور کنٹریکٹر نے وہاں سہولیات دینے کے حوالے سے ایک ماڈل بھی پیش کیا ہے
امید ہیکہ اس ماڈل پر کام ہوگا اور سیاح حضرات کو یہاں اچھی سہولیات میسر ائیں گی ۔

Thursday, November 15, 2018

زلزال جھیل چکار آزاد کشمیر

یہ بھی ایک جھیل ہے۔
کیا اپنے کبھی اس جھیل کی سیاحت کی ہے ؟
نہیں کی تو آئیں آج اپکو زلزال جھیل کا راستہ بتاتے ہیں اور اس کی چند خصوصیات بھی بتاتے ہیں ۔
یہ جھیل ایک حادثے کی پیداوار ہے اپکو پتہ ہوگا 8 اکتوبر 2005 کو کشمیر اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں ایک زلزلہ ایا تھا جس نے ایک لاکھ انسانوں کو نگل لیا تھا ۔
اسی زلزلے کے دوران مظفرآباد کے نواحی علاقہ چکار سے متصلہ ایک گاوں لودھی آباد سلائیڈ کر گیا پورا گاوں سلائیڈ کی زد میں اگیا جس کی وجہ سے 1200 نفوس سلائیڈ کے نیچے دب گئے نمںبردار اشرف حسیںن جو گاوں کی معروف شخصیت تھے وہ بھی ان 1200 لوگوں میں شامل تھے
سلائیڈ کی وجہ سے قدرتی نالے کا راستہ بند ہوگیا اور اس کا پانی اس پوری ویلی میں بھر گیا اور اس جھیل کا جنم ہوا۔
چونکہ یہ جھیل زلزلے کی وجہ سے بنی لہزا اسکا نام زلزال جھیل رکھ دیا گیا ۔
جھیل کے آس پاس سرسبز پہاڑ گھنے درخت اور۔ خوبصورت گاوں ہیں جو دعوت نظارہ دیتے ہیں ، اس جھیل کا پانی ہٹیاں کے مقام پر دریائے جہلم میں مل جاتا ہے۔
روٹ/ راستہ
مظفرآباد سے 55 کلومیٹر کی مسافت پر چکار ایک خوبصورت سیاحتی مقام ہے مظفرآباد سے دومیل کے مقام سے سرینگر روڈ پر سفر کریں تو سراں چھٹیاں گاوں سے چکار کا راستہ دائیں جانب پہاڑ کے اوپر بل کھاتی مکمل کارپٹٹڈ روڈ جاتی ہے یہی روڈ گنگا چوٹی بھی جاتی ہے ۔
چکار گاوں پہنچنے کے بعد 15 منٹ کی مسافت پر اپ جھیل پر پہنچ سکتے ہیں ۔ درختوں سے جب آپ کھلی فزا میں نمودار ہوتے ہیں تو اچانک جھیل کا نظارہ اپکی ساری سفری تھکاوٹ دور کردیتا ہے ۔
تقریباً 2.5 گھنٹوں کے سفر سے آپ اس جھیل پر باآسانی پہنچ سکتے ہیں ۔
دوسرا راستہ ضلع باغ کی جانب سے جب آپ گنگا چوٹی پینچتے ہیں تو وہاں سے روڈ چکار کی جانب اتی یے جس پر آپ باآسانی جھیل پر پہنچ سکتے ہیں۔
تیسرا راستہ ضلع ہٹیاں بالا مین بازار سے توڑا پہلے اوپر کی جانب اتا یے نیناں گاوں تک پکی روڈ اتی ہے اس سے اگے پیدل سفر کر کے آپ جھیل کے دھانےتک پہنچ جاتے ہیں ٹریکر حضرات کو یہی راستہ تجویز کروں گا ۔
ہر طرح کی گھاڑی اس جھیل پر آ سکتی ہے ۔چکار میں اپکو ضرورت زندگی کی تمام چیزیں مل جاتی ہیں لیکن جھیل پر سہولیات کا فقدان ہے محکمہ سیاحت اور ٹورازم پر کام کرنے والوں کی عدم توجہی کا شکار یہ جھیل اپنی خوبصورتی کے باوجود کوئی باقاعدہ سیاحتی مقام کا درجہ حاصل نہیں کرسکی ۔
زیادہ تر سیاح اسے دور سے دیکھنے میں ہی عافیت جانتے ہیں جس کی وجہ جھیل کے پاس جانے کا کوئی واضع ٹریک اور راستوں کی کمی ہے۔
اس جھیل پر لوکلز نے بھی زیادہ توجہ نہیں دی ایک عرصے تک جھیل۔پر جاکر سیاحتی سرگرمیوں کرنے کو گناہ سمجھا جاتا رہا یے اور اسکو عبرت کا نشان سمجھا جاتا رہا ہے کیوں کہ یہ زلزلہ کی وجہ سے بنی اور 1200 نفوس اس کے نیچے دب گئے ۔
یہ جھیل اور اس طرح کے بے شمار سیاحتی مقامات جو متعلقہ اداروں کی عدم توجہی کا شکار ہیں ان پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔
شیخ عمر نزیر/ ٹور بلاگر ، ٹور آپریٹرز
اس جھیل کی جی پی ایس لوکیشن نیچے دی گئی ہے اپ اسے دیکھ سکتے ہیں

34.1338475792381 °N, 
73.7196779251099 °E

Monday, January 22, 2018

تیر والا دل

تِیر والا دل

شاردہ کی طرف بس آدھا گھنٹہ رکنی تھی...سارے مسافر نیچے اُتر گئے، میں بھی اُتر گئی.ایک درخت کے پاس جا پہنچی، پاس سے ایک ٹورسٹ لڑکاlays Cips کا خالی ریپرپھینکتا ہوا گزرا... جانے کہاں کہاں سے آجاتے ہیں نالائق(میرےقریب سے آواز آئی میں نے مڑ کر درخت کو دیکھا)... کیا یہ آپ ہیں؟... ہاں ہم ہئی ہیں(درخت نے جواب دیا)... آپ کچھ ناراض دکھائی دے رہے ہیں... ناراض ہونا توبنتاہے نابتاؤ ذرا وہ موا یہاں کچرا پھینک کر چلتا بنا، جانے کبو سدھرے گی یہ قوم...یہ تو بالکل ٹھیک کہا آپ نے (میں نے ہاں میں ہاں ملائی)... خیر کدھر سے آوت ہو تم؟...کراچی سے... اوہوبڑی دور سے آوت ہو، ویسے ہمو بھی بڑی دور سے آوت ہیں...کدھر سے؟... بھوپال سے... بھوپال؟مگر یہ تو انڈیا میں ہے پھر آپ یہاں کیسے؟... بڑی لمبی کہانی ہے بس کیا سناویں تم کا، ہوؤکچھو یوں کہ بھوپال میں اِکو کھوتا تھا انڈین آرمی والے لے آئے اسکو کشمیر مال برداری واسطے، جس دن پہنچا رات کو کھل کےباڈر کراس کر گیا اور ہم ہیاں پیدا ہو گئے... تو وہ تو کھوتا یہاں پہنچا آپ یہاں کیسے پہنچے؟... اوہو بائیلوجی نا پڑھی ہوکا؟... نہیں... تو اب ہم کاپولی نیشین کے طریقے بتاویں تم کا؟...جی کیا مطلب ؟...او ہو، ہوو کچھو یوں کے کھوتا گهاس کھا آیا تھا وہ تو شکر کہ ہم کا نکال باہر کیا اور ہم پیدا ہو گئے ورنہ تو...ارے ارے ایسی باتیں ہر ایک کو نہیں بتاتے (میں نے ٹوکا)... اب تمہوہر کوئی تھوڑت ہو،ہر نئے موسم میں ہیاں منڈلاتی نظر آوت ہو اب تو مقامی لوگ بھی تم کا پہچان لیوت ہیں،پر ایک سمسیا ہے ہم کا... وہ کیا ہے؟... ہم کا اپنے باوا، اماں، چاچا کی بوہت یادآوت ہے،ہم کا چنتا ہووت ہے... جسطرح آپ کو اپنے پیاروں کی یاد آتی ہے اسی طرح یہاں کے لوگ بھی تو بارڈر پار اپنے پیاروں کے لیۓ تڑپتے ہیں... ہاں پر چنتا تو ہم کا کچھو اور ہووت ہے...وہ کیا؟... ہم ہیاں محپھوظ ناہی ہیں...یہاں آپکو کیا خطرہ ہے یہاں کے لوگ تو اچھے ہیں... کھترا ہے ہم کا ذرا دیکھو ہمری پیٹھ پر کا لکھا ہے...(میں نے جھانک کر دیکھا) عبد الله لکھا ہے... اوردیکھو کا لکھا ہے... دل بنا ہے اور نیچےNلکھا ہے... ہاں ساون میں آوت تھے عبد الله بھیا وہ گانا گاوت جاتے "تمرا اور ہمرا نام جنگل کے درختوں پر ابھی لکھا ہوا ہے تم کبھو جا کے مٹا آؤ" اور ہم کا زکهمی کیو جاتے نالائق،... اب کون آوے گا اسکو مٹانے وہان کی N تھوڑی آوے گی... اب تمہوہی ہمرا اکوکام کرو...عبد الله بھیا کو بلا لاؤو بیاں اور کہوو کے یہ داغ اب مٹا ڈالو اب بیاں سرف ایکسل تو کام نہ کرت ہے... جی میں سمجھی نہیں... نہ سمجھوہو تو اٹھائی لیو چقو اور بنائی ڈالو ایک تیر والا دل تمہو بھی...

تحریر : شافعہ خان
نیلم کی بس میں سفر ہورہا ہے سے اقتباس

تیر والا دل

https://sheikhumarblog.wordpress.com/2018/01/22/neelumforest/

Monday, January 15, 2018

جنگلات ہمارے محسن

خدا نےآج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

(اقبال)

اللہ تعالی قرآن مجید کی صورہ الرعد ایت نمبر 11 میں فرماتا ہیکہ

اللہ اس قوم کی حالت تب تک نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود اپنی حالت بدلنے کو تیار نہ ہو

دنیا میں کسی بھی ملک کی خوشحالی کا ثبوت یہ ہیکہ اس کے رقبے کے 25فیصد حصے پرجنگلات ہوں  آزاد کشمیر میں اور باالخصوص نیلم ویلی میں اللہ تعالی کی خصوصی کرم نوازی ہوئی کہ اس نے اس خطے کو جنگلات کی دولت سے مالا مال کیا یہی وجہ بنی کہ نیلم ویلی میں چشمے جاری ہوئے ندی نالے بہنے لگے خوبصورت أبشاریں نمدار ہوئی ندی نالوں کے قریب خوبصورت کھیتوں نے جنم لیا تمام تر جنگلی حیات ناپید ہوتے جانداروں نے نیلم ویلی کو اپنا مسکن بنایا پھر اچانک ہوا یوں کہ بنی نوع انسان کی نظر اس بدقسمت خطے پرپڑی اور اس نے اپنے اسائش کیلے اس کو چنا ابتدا میں تو اس خطے کے جنگلات زیادہ پرشان نہ ہوئے لیکن جوں جوں انسان نےاپنی سہولت اور ارام کیلے درخت کاٹنے شروع کیے تو جنگلات میں تشویش بڑھ گئی انسان نے جب اس کی لزت محسوس کی تو اس نے اس کو اپنی حوس کو نشانہ بنانا شروع کر دیا  دیکھتے ہی دیکھتے نیلم ویلی کے کثیر علاقے سے اس کا سفایا کر کے اس کی تنظیم کو بکھیر دیاجنگلات اس پر سخت غصہ ہوئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس انسان سے انتقام لیا جائے دیکھتے دیکھتے نیلم کے چشمے خشک ہونے لگے برف باری کا سلسلہرک گیا گلیشئر پگھلنے لگے اور ابشاریں اور ندی نالے سوکھنے لگے اکسیجن کی کمی ہوگئی اور کاربن کی مقدار بڑھ گئی سلائیﮈنگ شروع ہوگئی پتھر گرنے لگے زمینی کٹاو نے زور پکڑ لیا جنگلی حیات مرنے لگی اور بعض تو ناپید ہوگی اسی نیلم کے کچھ نوجوانوں نے جب یہ صورتحال دیکھی تو انکو اللہ تعالی کی ہدایت یاد اگئی انہوں نے جنگلات کو بچانے کا فیصلہ کر لیا نیلم یوتھ فورم کے نام سے انہوں نے یہ طے کر لیا کہ ہم اپنے جنگل کو بچائیں گے پورے جنگل میں یہ خبر پھیل گئی جنگلات کی مجلس بلائی گئی سب درخت حاضر ہوئے سربراہی انکے رہنما دیودار کی سربراہی میں اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں تمام درخت شریک ہوئے سبھی نے اظہار خیال کیا اور فیصلہ کیا کہ نیلم کے نوجوانوں کی اس تحریک میں انکا ساتھ دیں گے اور انکے لیے دعا کریں کہ اللہ انکو اس تحریک میں کامیابی عطا کرے .

شیخ عمر نزیر

نیلم یوتھ فورم

Tuesday, January 2, 2018

اڑنگ کیل نیلم ویلی

اڑنگ کیل وادی نیلم کیل کا خوبصورت گاوں جو سطح سمندر سے 8379 فٹ بلند ہے یہ خوبصورت گاوں  کیل سے جنوب کی جانب 2 کلومیٹر  ایک پہاڑی ٹیلے کو عبور کرنے کے بعد سرسبز میدان کی صورت نظر اتا ہے اس کی خوبصورتی کی کوئی مثال نہیں اس کی خاص بات یہکہ اس کی چاروں جانب گھنا جنگل جبکہ جنوب کی جانب بلند پہاڑ ہے جس پر سے گلیشر بہ کر اس گاوں کے پیچھلے کنارے تک اتا ہے 

گاوں میں پہنچنے کیلے اپکو کیل سے کیبل کارجوکہ 1 کلومیٹر سے زائد لمبی ہے پر بیٹھنا پڑتا ہے جو أپکو کافی قریب تک پہنچا دیتی ہے اس بے بعد تیز چلنے والوں کیلے 20 منٹ جبکہ اہستہ چلنے والوں کیلے 30 منٹ کی پیدل مسافت کے بعد گاوں میں پہنچ جاتے ہیں . یہاں رہائش کیلے خوبصورت گیسٹ ہاوس موجود ہیں جو کہ 1000 روپے سے 6000 روپے تک دستیاب ہوتے ہیں یہاں کھانے کا مسلہ رہتا ہے اور مہنگا بھی کیوں کہ لوکلز کو کھانے کا سامان کوفی دور سے گھوڑوں اور گھدوں پر لاد کر لانا پڑتا ہے 

کیل تک پہنچنے کیلے اپ اپنی پروئیوٹ گھاڑی پر جاسکتے ہیں 

شاردہ سے 21 کلومیٹر کا سفر طے کریں تو آپ کیل پہنچ سکتے ہیں.

اڑنگ کیل نیلم ویلی

اڑنگ کیل وادی نیلم کیل کا خوبصورت گاوں جو سطح سمندر سے 8379 فٹ بلند ہے یہ خوبصورت گاوں  کیل سے جنوب کی جانب 2 کلومیٹر  ایک پہاڑی ٹیلے کو عبور کرنے کے بعد سرسبز میدان کی صورت نظر اتا ہے اس کی خوبصورتی کی کوئی مثال نہیں اس کی خاص بات یہکہ اس کی چاروں جانب گھنا جنگل جبکہ جنوب کی جانب بلند پہاڑ ہے جس پر سے گلیشر بہ کر اس گاوں کے پیچھلے کنارے تک اتا ہے 

گاوں میں پہنچنے کیلے اپکو کیل سے کیبل کارجوکہ 1 کلومیٹر سے زائد لمبی ہے پر بیٹھنا پڑتا ہے جو أپکو کافی قریب تک پہنچا دیتی ہے اس بے بعد تیز چلنے والوں کیلے 20 منٹ جبکہ اہستہ چلنے والوں کیلے 30 منٹ کی پیدل مسافت کے بعد گاوں میں پہنچ جاتے ہیں . یہاں رہائش کیلے خوبصورت گیسٹ ہاوس موجود ہیں جو کہ 1000 روپے سے 6000 روپے تک دستیاب ہوتے ہیں یہاں کھانے کا مسلہ رہتا ہے اور مہنگا بھی کیوں کہ لوکلز کو کھانے کا سامان کوفی دور سے گھوڑوں اور گھدوں پر لاد کر لانا پڑتا ہے 

کیل تک پہنچنے کیلے اپ اپنی پروئیوٹ گھاڑی پر جاسکتے ہیں 

شاردہ سے 21 کلومیٹر کا سفر طے کریں تو آپ کیل پہنچ سکتے ہیں.